نجیب نامی مجرم نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ساتھیوں کیساتھ مل کر معصوم لڑکی کی عزت تار تار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا تھا، عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی

مستونگ (دبنگ ایف ایم- 30ستمبر2020ء) معصوم لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والا شخص پھانسی کی سزا سے بچ گیا، نجیب نامی مجرم نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ساتھیوں کیساتھ مل کر معصوم لڑکی کی عزت تار تار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا تھا، عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے بعد عوام کی جانب سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے عدالت نے جنسی زیادتی اور قتل کے جرم میں ملوث ایک مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

 

بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کچھ عرصہ قبل نجیب نامی جنسی درندے نے دیگر ساتھیوں کیساتھ مل کر ایک معصوم لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔

 

 
 
 
 
 

بعد ازاں مجرمان نے متاثرہ لڑکی کو قتل بھی کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس مجرم نجیب کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی۔ مجرم کا جرم ثابت ہو جانے کے باوجود عدالت کی جانب سے اسے سزائے موت دینے کی بجائے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ سانحہ گجر پورہ کے بعد سے ملک میں خواتین اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے کیسز رپورٹ ہونے کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس تمام صورتحال میں عوام اور عوامی نمائندوں کی جانب سے جنسی زیادتی کے ملزمان کو سخت اور عبرت نام سزائیں دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم اور چند وفاقی وزراء نے اعلان کیا کہ جنسی زیادتی کے ملزمان کو نامرد کرنے اور سرعام پھانسی کی سزا دینے کا بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

 

تاہم گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں سرعام پھانسی کی سزا قابل عمل نہیں، عالمی قوانین اور معاہدوں کی وجہ سے پاکستان میں سرعام پھانسی کی سزا پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *